تمہید
اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے شمار احسان جس نے ازضِ ستّیاں سے تعلق رکھنے والے اہلِ دانش انسانوں کو یہ شعور دیا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنا اللہ کے نزدیک نہایت پسندیدہ عمل ہے۔وہ ایسا وقت تھا کہ ہر طرف نفرتیں اور مایوسی چھائی ہوئی تھی ۔باہمی اختلافات کی وجہ سے سماجی تنظیموں کا وجود باقی نہ تھا۔علاقہ ستّیاں کے باسی بے یارومددگار تھے۔ایسے کٹھن حالات میں جہاں اعتماد باقی نہ رہا ہو ۔سماجی کام کا آغاز کرنا ایک غیر معمولی اقدام تھا۔ہمارے یہ محسن کو سرمایہ دار نہ تھےلت تھی بھی تو ایمان کی مصمم ارادوں کی اور خھمت کے جذبے کی۔اور ان سب میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہو تو تسخیرِ کائنات کوئی مسٔلہ نہیں ہوتا۔خراجِ تحسین ہے ان لوگوں کو جنھوں نے ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۰ علاقہ ستّیاں کے باسیوں کو مایوسی سے نکالا۔نفرتوں کو محبتوں میں تبدیل کیا۔پھر سلام ہے آنے والے ان کرداروں کو جنھوں نے اسے چار چاند لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ہم اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔ ستّی ویلفیئر ٹرسٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے دکھی دلوں پر نم آنکھوں اور پریشان حال لوگوں کو کبھی مایوس نہیں کیا۔الحمداللہ محبتوں کے سفر میں بغیر کسی نشیب وفراز کے لگ بھک 20 سال گزر گئے ۔اس دوران بڑی شدت سے یہ محسوس کیا جاتا رہا کہ علاقہ ستّیاں کے باسی جس قدر ہم پر اعتماد کرتے ہیں ۔ابھی اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔انہی اصولوں کے پیشِ نظر کہ،خدمت ہماری پہچان ہے،محبت ہماراشعارہے،سچائی ہمارا ایمان ہے، جذبہ رب کا احسان ہے،اتحاد ہماری کوشش ہے۔سال ۲۰۰۹ستّی ویلفیئر ٹرسٹ کا سالانہ اجلاس میں یہ اعلان کی اکے غریبوں،یتیموں،ناداروں کو اب بے یارومددگار نہیں چھوڑاجائے گا۔بلکہ ان کی ہر ممکن مدد کیلیئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی جائیں گی۔ ستّی ویلفیئر ٹرسٹ کسی مفروضے کا نام نہیں بلکہ دنیاکے سامنے حقیقی روپ میں موجود ہے۔الحمداللہ خدمت خلق کمیٹی کے نام سے ایک ذیلی ادارہ وجود میں آچکا ہے۔خراجِ تحسین ہے ان لوگوں کو جنھوں نے ہماری سوچ سع بھی ذیادہ کام کیا۔دکھی انسانیت کی خدمت کا ایک اور سلسلہ شروع ہو گیا۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے لیئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں ،ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آبا، ہمیں اللہ کی رضا کیلئے ان کاموں میں بڑھ چڑھ کر اپنا حق ادا کرنا ہوگا۔محنت سے عظمت ہے۔اللہ کے ساتھ کیا ہوا سودا ہمیشہ منافع بخش ہوتا ہے۔پھر آئیے خدمت کے اس پروگرام میں ہمارے ہمسفر بن جائیے۔
اللہ تعالیٰ ہمارا ہامی و ناصر ہو۔۔۔۔۔آب کی محبت کی طلب گار
